قطعہ ۔ متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

یه تیرے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب خیال
متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

گذشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

جون ایلیا

جون ایلیا کے قطعات

جون ایلیا کی غزلیں

غیر مردّف

ا

ب

ت

د

ر

ش

ع

م

ن

و

ک

ں

ہ

ی

ے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں