کس سے اظہارِ مدعا کیجے

کس سے اظہارِ مدعا کیجے
آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے

ہو نا پایا یہ فیصلہ اب تک
آپ کیا کیجیے تو کیا کیجے

آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں
سخت بیمار ہے دعا کیجے

ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جن سے ملیے اسے خفا کیجے

ہے تقاضا مری طبیعت کا
ہر کسی کو چراغ پا کیجے

ہے تو بارے یہ عالمِ اسباب
بے سبب چیخنے لگا کیجے

آج ہم کیا گلا کریں اس سے؟
گلہ تنگیِ قبا کیجے

فطق حیوان پر گراں ہے ابھی
گفتگو کم سے کم کیا کیجے

حضرتِ زلفِ غالیہ افشاں
نام اپنا صبا صبا کیجے

زندگی کا عجب معاملہ ہے
ایک لمحے میں فیصلہ کیجے

مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے

ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ
بیوفائی کی انتہا کیجے

کوہکن کو ہے خودکشی خواہش
شاہ بانو سے التجا کیجے

مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیں
آپ وہ زہر مت پیا کیجے

رنگ ہر رنگ میں ہے دوا غالب
خون تھوکوں تو واہ وا کیجے

جون ایلیا

جون ایلیا کے قطعات

جون ایلیا کی غزلیں

غیر مردّف

ا

ب

ت

د

ر

ش

ع

م

ن

و

ک

ں

ہ

ی

ے

قطعہ ۔ متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

یه تیرے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب خیال
متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

گذشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

جون ایلیا

جون ایلیا کے قطعات

جون ایلیا کی غزلیں

غیر مردّف

ا

ب

ت

د

ر

ش

ع

م

ن

و

ک

ں

ہ

ی

ے